Voice News

عمران خان کی حاضری کے پیش نظر لاہور ہائیکورٹ میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی

لاہور: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے پیشِ نظر عدالت کے اطرف میں سیکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے،عمران خان کی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر احتجاج سے متعلق ایک کیس میں اپنی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہونے کی توقع ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ دوپہر 2 بجے درخواست پر سماعت کریں گے۔

15 فروری کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عدم پیشی کی بنیاد پر عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی ۔

عمران خان نے عبوری حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

گزشتہ سماعت پر جسٹس شیخ نے عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 فروری کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی ۔

عدالت نے انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو پی ٹی آئی کے سربراہ کی قانونی ٹیم سے ملاقات کرکے سیکیورٹی معاملات پر فیصلہ کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا۔

آج کی سماعت سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے مرکزی دروازے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ عمران کی قانونی ٹیم بھی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے عدالت پہنچی۔

عمران کی مسجد گیٹ سے لاہور ہائیکورٹ میں داخلے کی درخواست مسترد کر دی گئی

قبل ازیں آج، عدالت نے پی ٹی آئی چیئرمین کی سینیٹر شبلی فراز کے ذریعے مسجد یا ججز گیٹ سے لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

درخواست، میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار پاکستان کا سابق وزیراعظم ہے اور حال ہی میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ "درخواست گزار کے فائرنگ سے ہونے والے زخم ابھی ٹھیک ہو رہے ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں زیادہ چلنے  کی اجازت نہیں دی ہے۔”

اس میں مزید کہا گیا کہ عمران کی زندگی کے لیے "بہت زیادہ خطرہ ہے”  کیونکہ پچھلے حملے کے مجرم اور ماسٹر مائنڈ ابھی تک فرار ہیں اور "بار بار دھمکیاں دے رہے ہیں”۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار، سابق وزیر اعظم ہونے کے ناطے، طبی وجوہات کی بناء پر انہیں مسجد کے گیٹ/ججز گیٹ سے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے